بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس انٹرویو میں جنوری 2026 کے تلخ واقعات کا ہمہ جہت اور مختلف زاویوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ سیکورٹی پہلو اس معاملے کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ایرانی عوام کے دشمنوں نے ایک کثیر الجہتی اور پیچیدہ منصوبے اور بعض اقتصادی اور سماجی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں اپنا 47 سالہ خواب پورا کرنے کی کوشش کی اور یقیناً اس بار بھی ماضی کی طرح، وہ غلط اندازے کا شکار ہوگئے اور ایرانی عوام کو ایک کلیدی عنصر کے طور پر، نہیں پہچانا چنانچہ ان کا منصوبہ ماضی کی طرح ادھورا اور ناکام ہو گیا۔
سوال: ان واقعات کے ساتھ چلنے والی میڈیا مہم کے بارے میں ذمہ دار اداروں کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے؟ خاص سوشل میڈیا نیٹ ورکس، بیرون ملکی فارسی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے کردار کو، بے چینی بڑھانے یا فسادات کو سمت دینے میں، کس طرح جانچا جاتا ہے؟ کیا منصوبہ بند نفسیاتی کارروائیوں ـ جیسے کہ جعلی تصاویر کی وسیع پیمانے پر تیاری اور تقسیم، مربوط افواہیں پھیلانا یا سائبر اسپیس پر خبری بوٹس کا حملہ کرنے کے شواہد ملے ہیں؟
جواب: پچھلی صدیوں کی جنگوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کے ماڈل کے ارتقاء نے طریقوں اور ہتھیاروں میں تنوع پیدا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، زمینی، بحری، فضائی، خلائی اور معلوماتی جنگوں کے ساتھ ساتھ، جنگ کی ایک نئی شکل ابھری اور پھیلی ہے جو کہیں زیادہ پیچیدہ، مؤثر اور شاید بہت کم خرچ ہے۔ ادراکی جنگ، جسے دلوں اور ذہنوں کی جنگ بھی کہا جاتا ہے، ہمارے سامنے جنگ کی ایک نئی شکل پیش کرتی ہے جس کا نشانہ ایمان، امید، اعتماد، آگاہی اور ارادہ ہے۔ ایسی جنگ جس کا بنیادی ہتھیار سوشل میڈیا اور سائبر / ورچوئل اسپیس ہے اور اس کا میدان روایتی جنگوں سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کے تمام ذہنوں اور یہاں تک کہ لوگوں کے گھروں تک پھیل گيا ہے۔
بنیادی طور پر ہمارے ملک کے ماضی کے فتنوں میں بھی اور بیرونی ممالک میں ملتے جلتے معاملات میں بھی، ورچوئل اسپیس اور خاص طور پر سوشل میڈیا نیٹ ورکس، ادراکی عدم تحفظ پیدا کرنے اور اسٹریٹ فائٹنگ نیٹ ورک کی تشکیل میں ایک بنیادی ستون کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن جنوری 2026 کے فسادات میں، سوشل میڈیا نیٹ ورکس دشمن کے لئے ایک موثر اوزار کے طور پر دستیاب ہو گئے۔ ایسا اوزار جو ملک کے اندر ڈیٹا گورننس میں کمزوری کی وجہ سے، سماجی، ثقافتی، سیاسی اور یہاں تک کہ سیکورٹی کے شعبوں میں ایران کے قومی مفادات کے خلاف ایک ہتھیار بن گیا ہے۔
بارہ روزہ مسلط کردہ جنگ میں، "شک و تردد کی مہم" کے مقاصد حسب ذیل ہیں:
1۔ عالمی رائے عامہ کے اندازوں کو فریب دینا،
2۔ ایرانیوں کے ذہنوں میں ادراکی ہیرا پھیری کرنا اور
3۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے حامیوں کے ادراک کو تباہ کرنا۔
حالیہ فساد میں بھی، جیسا کہ سپاہ پاسداران کی انٹیلی جنس تنظیم کے تیسرے بیان میں اشارہ کیا گیا، "سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے الگورتھم (Algorithm) میں ہیرا پھیری اور سیٹلائٹ چینلز کے نیٹ ورکس کے لئے پرتشدد کارروائی پر اکسانے والا مواد فراہم کرنا، کالوں کو مقام سے منسلک کرنا، افراتفری پھیلانے والی کارروائیوں کی تربیت اور ترویج" فساد کے تشہیری بازوؤں کے ایجنڈے پر تھے۔
دہشت گرد گروہوں نے بھی ملک میں سوشل میڈیا کے فراہم کردہ ماحول کا استعمال کرتے ہوئے، اپنی قوتوں اور پیادوں کی تربیت کو اپنے ایجنڈے پر رکھا۔ یہاں تک کہ میٹا (Meta) کمپنی بھی ایرانی اکاؤنٹس کے لئے انسٹاگرام پر فالو کرنے والوں اور فالو کئے جانے والوں کی فہرست کی نمائش کو غیر فعال کرنے میں، فساد کے داخلی نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کرنے اور ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام پلیٹ فارمز پر پیغامات اور تصاویر پھیلانے کے لئے بوٹس کے وسیع پیمانے پر استعمال میں مصروف تھی، جس کا حال ہی میں ایک فرانسیسی اخبار نے انکشاف کیا: "وسیع پیمانے پر تنظیم ساز محرک" (A catalyst for broad organizing) کا استعمال۔ یوں کہ، مثال کے طور پر، 8 جنوری کے کوڈ نیم اور کال کے اعلان کے ساتھ ہی، ایکس پلیٹ فارم پر فعال صارفین کی تعداد 10 گنا بڑھ گئی اور اس پر شائع ہونے والے مواد کی تعداد بڑھ کر 92 ہزار ٹویٹس تک پہنچ گئی۔ اسی طرح کے تناسب دیگر غیرملکی پلیٹ فارمز پر بھی بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔
سوال: چونکہ ایران کی سیکورٹی اور مضبوطی عوامی بنیادوں پر ہے، آپ کے خیال میں اس معاملے کا سامنا کرنے اور اس سے نمٹنے میں عوام کا کیا کردار تھا؟
جواب: عوام کا ہمیشہ سیکورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ تعاون میں بے مثال کردار رہا ہے۔ بنیادی طور پر اسلامی انقلاب اور اس سے ابھرنے والے نظام کی اصل خصوصیت شروع ہی سے اس کا عوامی ہونا تھی۔ ان امریکی-صہیونی فسادات کی نوعیت واضح ہوتے ہی، عوام میدان میں آئے، بہادری کے ساتھ ڈٹ گئے، سڑکوں اور مساجد میں حاضر ہوئے، اور یہ صورت حال فسادیوں سے آگاہانہ حد بندی کا سبب بنی، جس کی انتہا 12 جنوری کے انسداد دہشت گردی مارچ میں جلوہ گر ہوئی۔ علاوہ ازیں، حالیہ فسادات میں بھی (بارہ روزہ جنگ کی طرح)، عوام نے دوسرے انٹیلی جنس اداروں کی طرح، سپاہ پاسداران کی اطلاعاتی تنظیم میں اپنے بیٹوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، دشمن کے منصوبوں اور پیادوں کی نشاندہی اور پتہ لگانے میں وسیع تعاون کیا۔ سپاہ کی اطلاعاتی تنظیم کے نمبر 114 پر عوام کا چوبیس گھنٹے رابطہ رہتا ہے اور مختلف شہروں میں فسادیوں کی تخریبی سرگرمیوں کے بارے میں عوامی رپورٹس نے دشمن کے فسادی کارروائیاں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مورخہ 20 جنوری کے اختتام تک، عوام سے عمومی سیکورٹی کی خلاف ورزیوں اور بعض تخریبی کارروائیوں کے مشتبہ افراد کے بارے میں بسیج کی اطلاعات کے 114 سسٹم پر تقریباً پانچ لاکھ کالز اور رپورٹس موصول ہوئیں، جو بعض معاملات میں تعاقب یا گرفتاری کا باعث بنیں۔
سوال: دشمن کی اگلی حرکت کے بارے میں آپ کی پیش گوئی کیا ہے؟ کیا یہ لوگ اسی روش پر آگے بڑھیں گے یا نئی شرارتوں کی طرف جائیں گے؟
جواب: ہمارے معلوماتی جائزے بتاتے ہیں کہ انقلاب دشمن ٹولے ایک طرف امریکہ کی حمایت سے مایوس ہو چکے ہیں اور دوسری طرف، انہیں اپنے سرغنوں کی میدانی کارروائیاں سرانجام دینے کی صلاحیت پر شکوک و شبہات سامنے آئی ہیں۔ دہشت گرد ٹولوں کے کچھ عناصر پر موجودہ مکمل نگرانی سے معلوم ہؤا ہے کہ 'دشمن بخوبی جانتا ہے کہ ایرانی معاشرے کے اندر دہشت گرد گروہ کسی خاص سماجی سرمایہ نہیں رکھتے اور یہاں تک کہ میدان میں بھی مؤثر اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ بارہ روزہ جنگ کے دوران فسادی سرغنوں کے ساتھ دشمن کی جاسوسی ایجنسی کی ہونے والی ایک داخلی نشست میں، جب ٹولے پر میدانی بے عملی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی، تو اس نے اعتراف کیا کہ "ہم چاہتے تھے آپ کے احکامات پر عمل کريں لیکن ایسا کرنے سے عاجز رہے۔" حالیہ فسادات میں عوام کو میدان میں لانے میں ـ متعدد وجوہات کی بنا پر ـ فسادیوں کی اس نااہلی، کا ازالہ نہ ہو سکا۔ اسی لئے اس نے ادراکی ہیرا پھیری کے راستے سے، سوشل میڈیا پر ملک کی حقیقی صورت حال کے متوازی ایک مجازی دنیا بنانے کی کوشش کی اور اوباشوں اور غنڈوں کے زیر انتظام نوجوانوں اور کم عمروں میں سے کچھ افراد کو میدان میں لانے کی کوشش کی، اگر اقتصادی حالات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا گیا ہوتا تو وہ کبھی بھی عوام کو میدان میں لانے کے قابل نہ ہوتے۔ کیونکہ اس سے پہلے، ان ٹولوں کی متعدد کالوں کو قوم کی طرف سے بڑے "نہیں" کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اسی اثناء میں ہم جانتے ہیں کہ دشمن ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی منصوبہ بندی سے مایوس نہیں ہؤا ہے اور وہ وسیع پیمانے پر نفسیاتی کارروائیوں کے ذریعے، ادراکی خلل پیدا کرتے ہوئے، ایرانی قوم کی مضبوط صف میں دراڑ ڈالنے اور ملک کی داخلی صورت حال میں موجودہ حالات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس مقصد کے لئے، وہ ملک کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تہوں میں پیچیدہ کارروائیوں سے بھی گریز نہیں کرتا؛ جیسے عہدیداروں اور عوام کے موبائل فونز میں خلل ڈالنا، خدماتی اداروں ـ جیسے قومی ٹی وی اور ریڈیو کارپوریشن ـ کے انفراسٹرکچر کو ہیک کرنا اور ہؤائی جہاز کے ذریعے ٹیلی ویژن ریسیورز پر تصاویر بھیجنا، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جعلی آڈیو اور ویڈیو بنانا، تصویر بھیجنا وغیرہ، جو "ناگہانی جنگ" کے منصوبے کا حصہ ہے۔ نیز وہ ملک میں عدم تحفظ پیدا کرنے، ہمارے حملہ آور اور دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچانے اور یقیناً فسادیوں سے نمٹنے والے مراکز (سپاہ، وزارت اطلاعات اور پولیس ڈپارٹمنٹ) پر حملہ کرنے کے لئے اپنے پیادوں کے استعمال پر خاص طور پر زور دے رہے ہیں تاکہ سات مراحل کے پروگرام کو، جس کا تذکرہ ہؤا، بہتر طریقے سے نافذ کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ